(۲۱۲۶۷) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ عُبَیْدَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، أَنَّہُ سُئِلَ عَنِ النَّفَرِ یُکْتَبُ عَلَیْہِمُ الصَّکُّ : أَیُّہُمْ شَائَ أَخَذَ بِجَمِیعِ حَقِّہِ ؟ قَالَ : ہُوَ عَلَی شَرْطِہِ ، أَیُّہُمْ شَائَ أَخَذَ بِجَمِیعِ حَقِّہِ ، وَکَانَ إبْرَاہِیمُ یَسْتَحِبُّ أَنْ یَأْخُذَ مِنْ کُلِّ إنْسَانٍ مِنْہُمْ بِحِصَّتِہِ وَہُوَ أَعْدَلُ۔
(٢١٢٦٧) حضرت ابراہیم (رض) سے دریافت کیا گیا کہ کچھ آدمیوں کے متعلق اقرار نامہ لکھا گیا ہے، ان میں سے کس سے اپنا مکمل حق وصول کیا جاسکتا ہے ؟ فرمایا کہ وہ تو شرط پر ہے ( جو طے ہوا تھا) جس سے چاہے اپنا پورا حق وصول کرلے۔ اور حضرت ابراہیم (رض) اس بات کو پسند کرتے تھے کہ ان میں سے ہر شخص سے اس کے حصہ کے بقدر وصول کیا جائے، اور فرماتے تھے کہ یہ طریقہ انصاف کے زیادہ قریب ہے۔