(۲۱۳۲۱) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ حُبَابٍ وَعُبَیْدُ اللہِ ، عَنْ أَبِی ہِلاَلٍ ، عَنْ غَالِبٍ الْقَطَّانِ ، عَنْ أَبِی الْمُہَزِّمِ : أَنَّ رَجُلاً أَتَی أَبَا ہُرَیْرَۃَ فِی غَرِیمٍ لَہُ فَقَالَ : احْبِسْہُ ، قَالَ : قَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ : ہَلْ تَعْلَمُ لَہُ عَیْن مالٍ فَآخُذَہُ بِہِ ؟ قَالَ : لاَ ، قَالَ : فَہَلْ تَعْلَمُ لَہُ عَقَارًا کَثیِرَۃً ؟ قَالَ : لاَ ، قَالَ : فَمَا تُرِیدُ ؟ قَالَ : احْبِسْہُ ، قَالَ : لاَ ، وَلَکِنِّی أَدعُہُ یَطْلُبُ لَکَ وَلِنَفْسِہِ وَلِعِیَالِہِ۔
(٢١٣٢١) حضرت ابو مھزم (رض) سے مروی ہے کہ ایک شخص اپنے مقروض کو لے کر حضرت ابوہریرہ (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا، اور عرض کیا کہ اس کو قید کروائیں حضرت ابوہریرہ (رض) نے فرمایا : کیا تجھے معلوم ہے کہ اس کے پاس مال موجود ہے جو میں اس سے لے کر تجھے دوں ؟ اس نے عرض کیا نہیں، آپ (رض) نے پوچھا کہ کیا تجھے معلوم ہے کہ اس کی ملکیت میں بڑی زمین ہے ؟ اس نے عرض کیا کہ نہیں آپ نے پوچھا کہ پھر تو کیا چاہتا ہے ؟ اس نے عرض کیا کہ اس کو قید کریں : آپ (رض) نے فرمایا کہ نہیں بلکہ میں اس کو چھوڑتا ہوں تاکہ یہ تیرے لیے اپنے لیے اور اپنے اہل و عیال کے لیے روزی کمائے۔