(۲۱۳۳۳) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: أَصَابَ عُمَرُ أَرْضًا بِخَیْبَرَ، فَأَتَی النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : أَصَبْت أَرْضًا بِخَیْبَرَ لَمْ أُصِبْ مَالاً قَطُّ أَنْفَسَ مِنْہُ عِنْدِی ، فَمَا تَأْمُرُنِی ؟ قَالَ : إِنْ شِئْتَ حَبَسْت أَصْلَہَا وَتَصَدَّقْتَ بِہَا ، قَالَ : فَتَصَدَّقَ بِہَا عُمَرُ أَنَّہُ لاَ یُبَاعُ أَصْلُہَا ، وَلاَ یُوہَبُ ، وَلاَ یُورَّثُ۔
(بخاری ۲۷۳۷۔ مسلم ۱۲۵۵)
(٢١٣٣٣) حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) کو خیبر میں زمین ( مال غنیمت میں ) ملی، وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی : مجھے خیبر میں زمین ملی ہے، اور مجھے اس سے زیادہ پسندیدہ مال کبھی نہیں ملا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے کیا حکم فرماتے ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اگر تو چاہے تو اصل زمین کو روک کر رکھ لے اور اس کے ذریعہ صدقہ خیرات کرتا رہے۔ پھر عمر (رض) نے اس کے ذریعہ صدقہ خیرات کیا۔ اصل زمین کو نہیں بیچا جائے گا اور نہ ہی ھبہ کیا جائے گا۔ نہ ہی وہ کسی کو وراثت میں دی جائے گی۔