hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 21361

.

ابن أبي شيبة

21361
Ibn Abi Shaybah
(۲۱۳۶۲) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ حُبَابٍ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَیْدٍ ، عَنْ بَکْرِ بْنِ عُثْمَانَ ، قَالَ : کُنْتُ أَشْتَرِی الزِّیَادَۃَ فِی الْعَطَائِ بِخُرَاسَانَ بِالْحَرِیرِ وَالدَّرَاہِم ، فَحَجَجْت فَسَأَلْت سَالِمًا فَقَالَ : أَکْرَہُہُ بِالدَّرَاہِم ، وَلَیْسَ بِہِ بَأْسٌ بِالْعُرُوضِ ، وَسَأَلْت مُحَمَّدَ بْنَ کَعْبٍ الْقُرَظِیَّ فَقَالَ مِثْلَہُ ، وَسَأَلْت عَطَائً فَقَالَ مِثْلَہُ ، وَسَأَلْت الْحَسَنَ ، وَابْنَ سِیرِینَ فَقَالاَ : نَکْرَہُہَا بِالدَّرَاہِم ، وَلاَ نَرَی بِہَا بَأْسًا بِالْعُرُوضِ۔
(٢١٣٦٢) بکر بن عثمان فرماتے ہیں کہ میں خراسان میں ریشم اور دراہم کے بدلے عطاء کی زیادتی کو بیچا کرتا تھا۔ ایک سال میں نے حج کیا اور اس بارے میں حضرت سالم سے سوال کیا تو انھوں نے فرمایا کہ اس میں کچھ حرج نہیں اگر سامان کے ساتھ ہوں۔ البتہ دراہم کے ساتھ میں مکروہ سمجھتا ہوں۔ حضرت محمد بن کعب اور حضرت عطاء نے بھی یہی جواب دیا۔ میں نے حضرت حسن اور حضرت ابن سیرین سے بھی سوال کیا تو انھوں نے فرمایا کہ ہم اسے درہم کے ساتھ مکروہ سمجھتے ہیں البتہ سامان کے ساتھ کچھ حرج نہیں۔