(۲۱۳۷) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ ، عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَصْحَابُنَا ؛ أَنَّ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ جَائَ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، إِنِّی لَمَّا رَجَعْتُ الْبَارِحَۃَ وَرَأَیْتُ مِنِ اہْتِمَامِکَ ، رَأَیْتُ کَأَنَّ رَجُلاً قَائِمًا عَلَی الْمَسْجِدِ عَلَیْہِ ثَوْبَانِ أَخْضَرَانِ فَأَذَّنَ ، ثُمَّ قَعَدَ قَعْدَۃً ، ثُمَّ قَامَ فَقَالَ مِثْلَہَا ، غَیْرَ أَنَّہُ قَالَ : قَدْ قَامَتِ الصَّلاَۃُ ، وَلَوْلاَ أَنْ تَقُولُوا لَقُلْتُ : إِنِّی کُنْتُ یَقْظَانًا غَیْرَ نَائِمٍ ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لَقَدْ أَرَاکَ اللَّہُ خَیْرًا ، فَقَالَ عُمَرُ : أَمَا إِنِّی قَدْ رَأَیْتُ مِثْلَ الَّذِی رَأَی ، غَیْرَ أَنِّی لَمَّا سُبِقْتُ اسْتَحْیَیْتُ ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مُرُوا بِلاَلاً فَلْیُؤَذِّنْ۔ (ابوداؤد ۵۰۷)
(٢١٣٧) ایک مرتبہ ایک انصاری صحابی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! گزشتہ رات جب میں نے آپ کی فکر دیکھی اور آپ کے پاس سے واپس گیا تو میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک آدمی مسجد میں کھڑا ہے اور اس پر دو سبز کپڑے ہیں۔ اس نے اذان دی، پھر وہ ایک مرتبہ بیٹھا پھر اس نے اسی طرح اقامت کہی البتہ اقامت میں قد قامت الصلاۃ کے الفاظ کا اضافہ تھا۔ مجھے یوں لگتا ہے جیسے میں نیند اور بیداری کی درمیانی کیفیت میں تھا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں خیر دکھائی ہے۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ میں نے بھی خواب میں یہی کچھ دیکھا تھا لیکن اسے بیان کرتے ہوئے مجھے شرم محسوس ہوئی۔ پھر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ بلال کو حکم دو کہ وہ اذان دیں۔