(۲۱۴۲۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ أَبِی العُمَیْسِ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ جُعْدُبَۃَ ، عَنْ عُبَیْدِ بْنِ السَّبَّاقِ ، عَنْ زَیْنَبَ الثَّقَفِیَّۃِ امْرَأَۃِ عَبْدِ اللہِ ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَعْطَاہَا جُذَاذَ خَمْسِینَ وَسْقًا تَمْرًا وَعِشْرِینَ وَسْقًا شَعِیرًا ، فَقَالَ لَہَا عَاصِمُ بْنُ عَدِیٍّ : إِنْ شِئْتَ وَفَّیْتُکِیہَا ہُنَا بِالْمَدِینَۃِ وَتُوفِینہَا بِخَیْبَرَ ، فَقَالَتْ : حَتَّی أَسْأَلَ أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ عُمَرَ ، فَسَأَلَتْہُ فَقَالَ : وَکَیْفَ بِالضَّمَانِ ؟۔ (عبدالرزاق ۱۴۶۴۳)
(٢١٤٢٦) حضرت زینب الثقفیہ (رض) سے مروی ہے کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جذاذ کو پچاس وسق کھجور اور بیس وسق جُوْ عطا فرمائی، حضرت عاصم بن عدی (رض) نے ان سے کہا : اگر آپ چاہیں تو ہم تجھے یہ مدینہ منورہ میں دے دیں اور تو ہمیں خیبر میں دے دے، انھوں نے عرض کیا : ( ٹھہر جاؤ) یہاں تک کہ میں امیر المؤمنین حضرت عمر (رض) سے دریافت کرلوں ، پس انھوں نے آپ (رض) سے دریافت کیا ؟ آپ (رض) نے فرمایا کہ ضمان کون دے گا ؟