(۲۱۴۶۰) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ خِلاَسٍ ، أَنَّ أَمَۃً أَتَتْ طَیّئاً فَزَعَمَتْ أَنَّہَا حُرَّۃٌ فَتَزَوَّجَہَا رَجُلٌ ، ثُمَّ إنَّ سَیِّدَہَا ظَہَرَ عَلَیْہَا فَقَضَی عُثْمَانُ أَنَّہَا وَأَوْلاَدَہَا لِسَیِّدِہَا ، وَجَعَلَ لِزَوْجِہَا مَا أَدْرَکَ مِنْ مَتَاعِہ، وَجَعَلَ فِیہِمَ السُّنَّۃَ ، أَوِ الْمِلَّۃَ : فِی کُلِّ رَأْسٍ رَأْسَیْنِ۔
(٢١٤٦٠) حضرت خلاس (رض) سے مروی ہے کہ ایک باندی قبیلہ طیء میں آئی، اس نے کہا کہ وہ آزاد ہے، اس کو آزاد سمجھتے ہوئے ایک شخص نے اس کے ساتھ نکاح کرلیا، پھر اس باندی کا آقا اس کو لینے آگیا، حضرت عثمان (رض) نے فیصلہ فرمایا کہ باندی اور اس کے بچے آقا کو ملیں گے، اُور اس کے شوہر کے لیے وہ ہے جو وہ سامان میں سے پالے۔ پھر آپ نے لوگوں میں یہ طریقہ جاری فرمادیا کہ ہر ایک نفس میں دو نفس ہیں۔