(۲۱۴۷۶) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ بْنِ سَالِمٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : سَمِعْتُہُ یُحَدِّثُ ، أَنَّ رَجُلاً اشْتَرَی مِنْ رَجُلٍ غُلاَمًا ، فَلَمَّا انْصَرَفَ بِہِ إذَا بِہِ قَرَعٌ ، فَخَاصَمَ صَاحِبَہُ إلَی شُرَیْحٍ ، قَالَ : فَقَالَ : إنِّی اشْتَرَیْت مِنْ ہَذَا ہَذَا الْغُلاَمَ وَبِہِ قَرَعٌ ، فَانْظُرْ إلَی قَرَعِہِ فَإِنَّ الْقَرَعَ لاَ یَحْدُثُ ، قَالَ : فَقَالَ شُرَیْحٌ : لاَ أَجْمَعُ أَنْ أَکُونَ قَاضِیًا وَشَاہِدًا ، أَرِہِ غَیْرِی ، ثُمَّ ائْتِنِی بِہِمْ فَلْیَشْہَدُوا لَکَ ، وَإِلاَّ فَیَمِینُہُ بِاللَّہِ : مَا بَاعَکَہُ وَبِہِ ہَذَا الْقَرَعُ۔
(٢١٤٧٦) حضرت شعبی (رض) سے مروی ہے کہ ایک شخص نے دوسرے سے غلام خریدا پھر جب وہ اس کو لے کر گیا تو وہ گنجا تھا، وہ شخص اس کے ساتھ جھگڑتے ہوئے حضرت شریح (رض) کے پاس آیا ، اور عرض کیا کہ میں نے اس سے غلام خریدا تھا یہ تو گنجا ہے آپ اس کے گنجے پن کو دیکھئے، یہ گنجا پن کوئی نیا نہیں ہے۔ حضرت شریح (رض) نے فرمایا : میں یہ نہیں کرسکتا کہ فیصلہ بھی کروں اور گواہ بھی بنوں، میرے علاوہ کچھ اور لوگوں کو بھی دکھا دو ، پھر ان کے ساتھ میرے پاس آؤ تاکہ وہ تمہارے حق میں گواہی دیں وگرنہ بیچنے والا قسم اٹھائے گا کہ اس نے گنجے پن کے ساتھ نہیں بیچا تھا۔