(۲۱۴۸۶) حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِیسَی ، عَنْ أُنَیْسِ بْنِ أَبِی یَحْیَی ، قَالَ : سَأَلْتُ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ عَنْ مُکَاتَبٍ کَانَ بَیْنَ ثَلاَثَۃٍ قَاطَعَہُ بَعْضُہُمْ وَتَمَسَّکَ بَعْضُہُمْ بِکِتَابَتِہِ فَلَمْ یُقَاطِعْہُ ، وَمَاتَ الْمُکَاتَبُ وَتَرَکَ مَالاً کَثِیرًا ، لِمَنْ ترکتُہ ؟ قَالَ : فَقَالَ : سَعِید بْنَ الْمُسَیَّبِ : یستوفی الَّذِینَ تَمَسَّکُوا بَقِیَّۃَ کِتَابَتِہِمْ ، ثُمَّ یَکُونُ مَا بَقِیَ بَیْنَہُمْ۔
(٢١٤٨٦) حضرت سعید بن المسیب (رض) سے دریافت کیا گیا کہ ایک مکاتب تین آدمیوں کے درمیان مشترک ہے، ان میں سے بعض نے اس کو کتابت سے علیحدہ کردیا اور بعض نے مال کتابت وصول کیا اور علیحدہ نہ کیا، وہ مکاتب غلام فوت ہوگیا اور اس نے ترکہ میں بہت سے مال چھوڑا، تو اس کا ترکہ کس کو ملے گا ؟ حضرت سعید بن المسیب (رض) نے فرمایا : جنہوں نے مکاتب بنایا تھا ان کو بقیہ مال کتابت دیا جائے گا پھر جو کچھ بچے گا وہ ان کے درمیان مشترک ہوگا۔