(۲۱۵۰۴) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ بَاعَ غُلاَمًا لَہُ بِثَمَانِ مِئَۃٍ دِرْہم ، قَالَ : فَوَجَدَ بِہِ الْمُشْتَرِی عَیْبًا فَخَاصَمَہُ إلَی عُثْمَانَ ، فَسَأَلَہُ عُثْمَانُ فَقَالَ : بِعْتُہُ بِالْبَرَائَۃِ ، فَقَالَ : تَحْلِفُ بِاللَّہِ : لَقَدْ بِعْتَہُ وَمَا بِہِ مِنْ عَیْبٍ تَعْلَمُہُ ؟ فَقَالَ : بِعْتُہُ بِالْبَرَائَۃِ ، فَقَالَ : تَحْلِفُ بِاللَّہِ : لَقَدْ بِعْتَہُ وَمَا بِہِ مِنْ عَیْبٍ تَعْلَمُہُ ؟ وَأَبَی أَنْ یَحْلِفَ ، فَرَدَّہُ عُثْمَانُ عَلَیْہِ فَبَاعَہُ بَعْدَ ذَلِکَ بِأَلْفٍ وَخَمْسِ مِئَۃٍ۔
(٢١٥٠٤) حضرت سالم (رض) سے مروی ہے کہ حضرت ابن عمر (رض) نے آٹھ سو درہم میں ایک غلام فروخت کیا، مشتری نے اس غلام میں عیب پایا اور مخاصمہ کے لیے حضرت عثمان (رض) کے پاس حاضر ہوا۔ حضرت عثمان (رض) نے حضرت ابن عمر (رض) سے اس کے متعلق دریافت فرمایا ؟ آپ (رض) نے فرمایا میں نے اسے بیچتے وقت کہہ دیا تھا کہ میں اس کے ہر عیب سے بری الذمہ ہوں، حضرت عثمان (رض) نے ارشاد فرمایا کہ آپ قسم اٹھائیں کہ میں نے اس کو غلام فروخت کیا اور اس میں بوقت فروخت کوئی عیب ایسا نہ تھا جو میرے علم میں ہو ؟ حضرت ابن عمر نے کہا کہ میں نے بیچتے وقت یہ کہہ دیا تھا کہ میں اس کے ہر عیب سے بری الذمہ ہوں، حضرت عثمان (رض) نے دوبارہ ارشاد فرمایا کہ آپ قسم اٹھائیں کہ میں نے اس کو غلام فروخت کیا اور اس میں بوقت فروخت کوئی عیب ایسا نہ تھا جو میرے علم میں ہو ؟ حضرت ابن عمر (رض) نے قسم اٹھانے سے انکار کردیا، حضرت عثمان (رض) نے وہ غلام آپ کو واپس کروا دیا، حضرت ابن عمر (رض) نے بعد میں وہی غلام پندرہ سو درہم میں فروخت کیا۔