(۲۱۵۱۹) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ زَکَرِیَّا ، عَنْ عَامِرٍ ، أَنَّہُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ اشْتَرَی جَارِیَۃً فَزَعَمَ أَنَّہَا حُبْلَی ، فَأَنْکَرَ الَّذِی بَاعَہَا فَوَضَعُوا الْجَارِیَۃَ عَلَی یَدَیْ عَدْلٍ حَتَّی یَتَبَیَّنَ حَمْلُہَا فَمَاتَتْ ، فَقَالَ : إِنْ کَانَ تَبَیَّنْ حَمْلُہَا فَہِیَ مِنْ مَالِ الْبَائِعِ ، وإنْ لَمْ یَکُنْ تَبَیَّنْ حَمْلُہَا فَہِیَ مِنْ مَالِ الْمُشْتَرِی۔
(٢١٥١٩) حضرت عامر (رض) سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص نے باندی خریدی اور اس کا خیال تھا کہ یہ باندی حاملہ ہے، جبکہ بائع نے اس کا انکار کیا، باندی عادل شخص کے سپرد کردی گئی یہاں تک کہ اس کا حمل ظاہر ہوا وہ مرگئی تو اس کا کیا حکم ہے ؟ آپ (رض) نے فرمایا کہ اگر اس کا حمل ظاہر ہوجائے تو وہ بائع کے مال میں سے ہلاک ہوگی اور اگر حمل ظاہر نہ ہوا تو مشتری کے مال میں سے ہلاک ہوگی۔