(۲۱۵۵۵) حَدَّثَنَا کَثِیرُ بْنُ ہِشَامٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ، قَالَ : حدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ أَبِی الْقَاسِمِ ، قَالَ : سَأَلْتُ نَافِعًا وَرَبِیعَۃَ ، فَقُلْتُ : نَشْتَرِی الْبَزَّ ، ثُمَّ نَزِیدُ عَلَیْہِ فَوْقَ ثَمَنِہِ ، ثُمَّ نَرْقُمُہُ عَلَیْہِ ، ثُمَّ نَبِیعُہُ مُرَابَحَۃً ، وَلاَ نُبَیِّنُ الزِّیَادَۃَ ، فَقَالَ : لاَ ، ہَذِہِ الْمُخَالَبَۃُ وَالْمُکَاذَبَۃُ۔
(٢١٥٥٥) حضرت عبد الملک بن ابی قاسم (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت نافع اور حضرت ربیع سے دریافت کیا کہ : ہم لوگ کپڑا خریدتے ہیں پھر اس پر کچھ ثمن کا اضافہ کرتے ہیں اور پھر اس پر قیمت کی چٹ لگا دیتے ہیں اور اس کو بیع مرابحہ کرتے ہوئے فروخت کردیتے ہیں، لیکن جو ثمن زیادہ کیا ہے اس کو بیان نہیں کرتے، ایسا کرنا کیسا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ نہیں یہ تو دھوکا اور جھوٹ ہے۔