(۲۱۶۵۶) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ یَاسِرٍ ، عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ أَبِی الْوَلِیدِ ، عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ ، قَالَ ، قَالَ زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ : یَغْفِرُ اللَّہُ لِرَافِعِ بْنِ خَدِیجٍ ، أَنَا وَاللَّہِ أَعْلَمُ بِالْحَدِیثِ مِنْہُ ، إنَّمَا أَتَاہُ رَجُلاَنِ قَدَ اقْتَتَلاَ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إِنْ کَانَ ہَذَا شَأْنُکُمْ فَلاَ تُکْرُوا الْمَزَارِعَ ، فَسَمِعَ رَافِعٌ قَوْلَہُ : لاَ تُکْرُوا الْمَزَارِعَ۔ (ابوداؤد ۳۳۸۳۔ احمد ۱۸۲)
(٢١٦٥٦) حضرت زید بن ثابت (رض) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ حضرت رافع بن خدیج (رض) کی مغفرت فرمائے، خدا کی قسم میں ان سے زیادہ اس حدیث کو جانتا ہوں، آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں دو شخص جھگڑتے ہوئے آئے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اگر تمہاری یہی حالت ہے تو تم لوگ زمین کرایہ ( مزارعۃ) پر نہ دیا کرو، حضرت رافع (رض) نے صرف آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا آخری قول ” زمین مزارعۃ پر مت دیا کرو “ سنا۔