(۲۱۷۶۸) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی زَائِدَۃَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَبَا بَکْرٍ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنِ الأَعْطَانِ ؟ فَقَالَ : أَمَّا أَہْلُ الْجَاہِلِیَّۃِ فَکَانَتْ خَمْسِینَ ذِرَاعًا لِنَاحِیَتِہَا یَکُونُ بَیْنَ الْبِئْرَیْنِ مِئَۃ ، فَلَمَّا کَانَ الإِسْلاَمُ رَأَوْا ، أَنَّ دُونَ ذَلِکَ مُجْزِئٌ ، فَجُعِلَ لِکُلِّ بِئْرٍ خَمْسٌ وَعِشْرُونَ ذِرَاعًا لِنَاحِیَتیہَا خَمْسُونَ ذِرَاعًا۔
(٢١٧٦٨) حضرت محمد بن اسحاق (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم (رض) سے کنویں کے احاطہ کے متعلق دریافت کیا ؟ آپ نے فرمایا : زمانہ جاہلیت میں اس کے ارد گرد کے لیے پچاس ذراع ہوتا تھا، دو کنوؤں کے درمیان سو ہوتا تھا، جب اسلام کا دور آیا تو دیکھا گیا کہ اس سے کم بھی کافی ہوجاتا ہے، پھر ہر کنویں کے لیے پچیس ذراع بنایا گیا ، اس کے ارد گرد کے لیے پچاس ذراع۔