(۲۱۷۹۲) حَدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ ، عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِیِّ رَجُلٍ مِنْ أَہْلِ الْکُوفَۃِ : أَنَّ رَجُلاً قَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، أَضْرِبُ یَتِیمِی ؟ قَالَ : اضْرِبْہُ مِمَّا کُنْت ضَارِبًا مِنْہُ وَلَدَک ، قَالَ : فَمَا آکُلُ مِنْ مَالِہِ ؟ قَالَ : بِالْمَعْرُوفِ غَیْرَ مُتَأَثِّلٍ مِنْ مَالِہِ ، وَلاَ وَاقِیًا مَالَک بِمَالِہِ۔ (بیہقی ۲۸۵۔ طبری ۲۶۰)
(٢١٧٩٢) حضرت حسن عزنی ایک کوفی شخص سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول 5! کیا میں اپنے زیر تربیت یتیم کو مار سکتا ہوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اس کو اتنا ہی مارو جتنا کہ اگر اس کی جگہ تمہارا اپنا بیٹا ہوتا تو اس کو مارتے، اس شخص نے عرض کیا کہ میں اس کے مال میں سے کتنا اور کیسے استعمال کرسکتا ہوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اچھے اور معروف طریقے سے، اس کے مال کو ضائع کیے بغیر اور اس کے مال کے ذریعے اپنے مال کو بچائے بغیر استعمال کرسکتے ہو۔