(۲۱۸۴۶) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : إذَا مَاتَ الْمُکَاتَبُ وَعَلَیْہِ دَیْنٌ یَضْرِبُ مَوَالِیہِ بِمَا حَلَّ مِنْ نُجُومِہِ مَعَ الْغُرَمَائِ ، وَإِنْ لَمْ یَکُنْ لَہُ نَجْمٌ حَالٌّ بُدِئَ بِالْغُرَمَائِ فَأَخَذُوا دَیْنَہُمْ ، فَإِنْ فَضَلَ شَیْئٌ کَانَ لِمَوَالِیہِ حَتَّی تَتِمَّ مُکَاتَبَتُہُ ، فَإِنْ فَضَلَ شَیْئٌ بَعْدَ مُکَاتَبَتِہِ کَانَ لِوَرَثَتِہِ۔
(٢١٨٤٦) حضرت ابراہیم (رض) فرماتے ہیں کہ اگر مکاتب غلام اس حال میں فوت ہو کہ اس پر قرض ہو تو اس کے آقا کو قرض خواہوں کے ساتھ رکھیں گے، قسطوں میں سے جو واجب الاداء ہے وہ پہلے دیں گے اور اگر اس پر فی الفور کوئی قسط لازم نہ ہو تو قرض خواہوں سے ابتداء کریں گے پس وہ اپنا قرض وصول کرلیں گے، اور اگر اس میں سے کچھ بچ جائے تو وہ آقاوں کو ملے گا یہاں تک کہ بدل کتابت مکمل ہوجائے اور اگر بدل کتابت ادا کرنے کے بعد بھی کچھ بچ جائے تو وہ اس کے ورثاء کے ملے گا۔