(۲۱۹۰۱) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ رُفَیْعٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، قَالَ : سَأَلْتُہ قُلْتُ : إنَّا نَحْمِلُ ہَذِہِ الْبَضَائِعَ لِلنَّاسِ فَنَحْتَاجُ إلَیْہَا فِی الطَّرِیقِ ، قَالَ : إذَا قَدِمْتَ اشْتَرَیْتَ لأَِصْحَابِہَا حَاجَتَہَا ، وَلَمْ تَحْبِسْہَا ؟ قُلْتُ : بَلَی ، قَالَ : لاَ بَأْسَ ، ہُوَ خَیْرٌ لِصَاحِبِ الْبِضَاعَۃِ۔
(٢١٩٠١) راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عطا (رض) سے دریافت کیا کہ ہم سامان تجارت لوگوں کے حوالے کرتے ہیں، پھر راستے میں ہمیں اس کی ضرورت پڑجاتی ہے تو ہمارے لیے کیا حکم ہے ؟ آیا ہم اسے لے سکتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : اگر تم منزل مقصود پر پہنچ جاؤ تو لوگوں کو ان کی ضرورت کی چیزیں بیچو گے ؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں، آپ نے فرمایا پھر کوئی حرج نہیں۔ یہ سامان والے کے لیے زیادہ بہتر ہے۔