(۲۲۰۱۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ، عَنْ مَیْمُونِ بْنِ مِہْرَانَ ، قَالَ : فَشَا فِی عَسْکَرِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ أَنَّہُ یَرَی بَیْعَ أُمَّہَاتِ الأَوْلاَدِ ، فَدَخَلَ عَلَیْہِ رَجُلٌ فَذَاکَرَہُ فِی ذَلِکَ ، فَإِذَا عُمَرُ أَشَدُّ فِی عِتْقِہِنَّ مِنَ الرَّجُلِ الَّذِی ذَاکَرَہُ ذَلِکَ ، وَإِذَا عُمَرُ یَرَی أَنَّ ذَلِکَ رَأْیُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ۔
(٢٢٠١٥) حضرت میمون بن مہران سے مروی ہے کہ عمر بن عبدالعزیز کے لشکر میں یہ بات پھیل گئی کہ عمر بن عبدالعزیز ام ولد کی بیع کو جائز سمجھتے ہیں۔ پھر ایک آدمی آپ کے پاس آیا اور اس نے اس بارے میں سوال کیا۔ تب معلوم ہوا کہ عمر بن عبدالعزیز سوال کرنے والے آدمی سے بھی زیادہ سختی سے ام ولد کی آزادی کے قائل تھے اور نیز عمر بن عبدالعزیز کے نزدیک عمر بن خطاب (رض) کی بھی یہی رائے تھی۔