(۲۲۰۲۷) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ : فِی رَجُلٍ دَسَّ إلَی رَجُلٍ دَرَاہِمَ لِیَشْتَرِیَہُ وَیُعْتِقَہُ ؟ قَالَ : إِنْ ظَہَرَ مَوْلاَہُ عَلَیْہِ قَبْلَ أَنْ یُعْتِقَہُ فَلَہُ مَا أُخِذَ مِنْ ثَمَنِہِ ، وَیَأْخُذُ عَبْدَہُ ، وَإِنْ ظَہَرَ عَلَیْہِ بَعْدَ مَا أَعْتَقَہُ الَّذِی أَخَذَہُ، أَخَذَ مِنَ الَّذِی اشْتَرَاہُ سِوَی مَا قَدْ أَخَذَ فَأُعْتِقَ۔
(٢٢٠٢٧) ابراہیم (رض) سے اس غلام کے بارے میں سوال کیا گیا جو کسی دوسرے کو چوری چوری دراہم دے تاکہ وہ اس کو خرید کر آزاد کرسکے ؟ انھوں نے جواب دیا کہ اگر آقا غلام پر دوسرے آدمی کے آزاد کرنے سے قبل ہی قبضہ کرلے تو وہ غلام بھی لے لے گا اور اس کے ثمن بھی لے گا۔ اور اگر دوسرے آدمی کے آزاد کردینے کے بعد قبضہ کیا ہے تو آزاد کردینے کے بعدجتنی رقم بچتی ہے وہ مشتری سے معتق) لے گا۔