(۲۲۰۵۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِی السَّفَرِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِی رُؤَاسٍ ، قَالَ: الْتَقَطْت ثَلاَثَ مِئَۃِ دِرْہَمٍ فَعَرَّفْتہَا تَعْرِیفًا ضَعِیفًا وَأَنَا یَوْمَئِذٍ مُحْتَاجٌ فَأَکَلْتہَا حِینَ لَمْ أَجِدْ أَحَدًا یَعْرِفُہَا ، ثُمَّ أَیْسَرْت فَسَأَلْت عَلِیًّا فَقَالَ : عَرِّفْہَا سَنَۃً ، فَإِنْ جَائَ صَاحِبُہَا فَادْفَعْہَا إلَیْہِ وَإِلاَّ فَتَصَدَّقْ بِہَا وَإِلاَّ فَخَیِّرْہُ بَیْنَ الأَجْرِ وَبَیْنَ أَنْ تَغْرَمَہَا لَہُ۔
(٢٢٠٥٤) حضرت ابو سفر (رض) سے مروی ہے کہ بنی رُؤاس میں سے ایک شخص کہتے ہیں کہ مجھے تین سو دراہم ملے، میں نے ان کی تھوڑی سی تشہیر کروائی میں ان دنوں خود محتاج تھا۔ تشہیر کے بعد جب میں نے کسی کو نہ پایا تو میں نے وہ کھا لیئے، پھر بعد میں صاحب استطاعت ہوگیا تو میں نے حضرت علی (رض) سے اس کے متعلق دریافت کیا ؟ آپ (رض) نے فرمایا ایک سال تک ان کی تشہیر کرو ، اگر مالک آجائے تو اس کے حوالے کردو، وگرنہ اس کی طرف سے صدقہ کردو، اور اس کو اختیار ہے کہ اس کا اجر ( صدقہ) لے لے یا تُو اس کا نقصان پورا کر دے۔