(۲۲۰۵۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ شَیْبَانَ ، عَنْ أَبِی نَوْفَلِ بْنِ أَبِی عَقْرَبٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : الْتَقَطْت بَدْرۃً فَأَتَیْت بِہَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، فَقُلْتُ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ : أَغْنِہَا عَنِّی ، فَقَالَ : وَافِ بِہَا الْمَوْسِمَ فَوَافَیْت بِہَا الْمَوْسِمَ فَقَالَ : عَرِّفْہَا حَوْلاً ، فَعَرَّفْتہَا ، فَلَمْ أَجِدْ أَحَدًا یَعْرِفُہَا فَأَتَیْتہ ، فَقُلْتُ فَأَغْنِہَا عَنِّی فَقَالَ: أَلاَ أُخْبِرُک بِخَیْرِ سَبِیلِہَا ؟ تَصَدَّقْ بِہَا ، فَإِنْ جَائَ صَاحِبُہَا فَاخْتَارَ الْمَالَ غَرِمْت لَہُ وَکَانَ الأَجْرُ لَکَ ، وَإِنِ اخْتَارَ الأَجْرَ کَانَ الأَجْرُ لَہُ وَلَک مَا نَوَیْت۔
(٢٢٠٥٧) حضرت ابو عقرب (رض) سے مروی ہے کہ مجھے پیسوں کی ایک تھیلی ملی۔ میں حضرت عمر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا اے امیر المؤمنین ! آپ میری طرف سے ان کی حفاظت کرنے کے لیے نائب بن جائیں۔ آپ (رض) نے فرمایا : ایام حج میں اعلان کرنا، میں نے ایام حج میں اعلان کیا۔ پھر آپ (رض) نے فرمایا ایک سال تک تشہیر کرو۔ میں نے تشہیر کی لیکن مالک کو نہ پایا، میں پھر آپ (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ آپ میری طرف سے حفاظت کے لیے نائب بن جائیں، آپ (رض) نے فرمایا کیا تجھے ایک بہتر راستہ بتلاؤں، ان کو صدقہ کر دے، اگر پھر مالک آجائے اور مال مانگے تو نقصان کا ذمہ دار ہے، اور صدقہ کا اجر تجھے ملے گا، اور اگر وہ اجر کا طالب ہو تو اجر اس کو ملے گا اور تجھے وہی ملے گا جس کی تو نیت کرے گا۔