(۲۲۰۵۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ ، عَنْ سُوَیْد بْنِ غَفَلَۃَ ، قَالَ : خَرَجْت أَنَا وَزَیْدُ بْنُ صُوحَانَ وَسَلْمَانُ بْنُ رَبِیعَۃَ حَتَّی إذَا کُنَّا بِالْعُذَیْبِ الْتَقَطْت سَوْطًا ، فَقَالاَ : لِی : أَلْقِہِ ، فَأَبَیْت ، فَلَمَّا أَتَیْتُ الْمَدِینَۃَ أَتَیْتُ أُبَیَّ بْنَ کَعْبٍ فَسَأَلْتُہُ فَقَالَ : الْتَقَطْتُ مِئَۃ دِینَارٍ عَلَی عَہْدِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَذَکَرْت ذَلِکَ لَہُ فَقَالَ : عَرِّفْہَا سَنَۃً ، فَإِنْ جَائَ صَاحِبُہَا فَادْفَعْہَا إلَیْہِ وَإِلاَّ فَاعْرِفْ عَدَدَہَا وَوِعَائَہَا وَوِکَائَہَا، ثُمَّ تَکُونُ کَسَبِیلِ مَالِک۔ (بخاری ۲۴۲۶۔ مسلم ۱۰)
(٢٢٠٥٩) حضرت سوید بن غفلہ سے مروی ہے کہ میں ، زید بن صوحان اور حضرت سلمان بن ربیعہ سفر پر نکلے یہاں تک کہ مقام عذیب پر جب پہنچے تو میں نے ایک کوڑا گرا ہوا اٹھا لیا، اُن دونوں نے مجھ سے کہا کہ اس کو پھینک دو ، لیکن میں نے انکار کردیا۔ جب میں مدینہ آیا تو میں حضرت ابی بن کعب (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے اس کے متعلق سوال کیا ؟ آپ (رض) نے فرمایا : مجھے حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں سو دینار ملے تھے میں نے ان کو ذکر جب حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ایک سال تک اس کی تشہیر کرو، اگر مالک آجائے تو اس کے حوالہ کردو ورنہ ان دیناروں کی تعداد اور تھیلی، برتن وغیرہ کی اچھی طرح پہچان کرلو۔ پھر تو اس رقم کے مالک کے راستہ کی مانند ہے (یعنی پہلے وہ اس رقم کو راستہ سے اٹھا لیتا لیکن اب وہ تیرے سے لے گا) ۔