(۲۲۱۲۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ رَبِیعَۃَ بْنِ یَزِیدَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : کُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ فَضَالَۃَ ، فَأَتَاہُ رَجُلاَنِ یَخْتَصِمَانِ فِی بَازٍ ، فَقَالَ أَحَدُہُمَا : وَہَبْت لَہُ بَازِیَ رَجَائَ أَنْ یُثِیبَنِی ، وَأَخَذَ بَازِیَ وَلَمْ یَثِبْنِی ، فَقَالَ لَہُ الآخَرُ : وَہَبَ لِی بَازِہ ، مَا سَأَلْتُہُ ، وَلاَ تَعَرَّضْت لَہُ ، فَقَالَ : رُدَّ عَلَیْہِ بَازِہ ، أَوْ أَثِبْہُ ، فَإِنَّمَا یَرْجِعُ فِی الْمَوَاہِبِ النِّسَائُ وَأشْرَارُ الأَقْوَامِ۔
(٢٢١٢٢) حضرت عبداللہ بن عامر فرماتے ہیں کہ میں حضرت فضالہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ دو آدمی ایک باز کے متعلق جھگڑتے ہوئے آئے، ان میں سے ایک نے کہا میں نے اس کو اس امید سے باز ہبہ کیا تھا کہ یہ مجھے عوض دے گا، اور اس نے باز لے لیا اور مجھے عوض نہ دیا، اور دوسرے نے کہا کہ اس نے ازخود باز ہبہ کیا ہے میں نے اس سے مانگا یا اصرار نہیں کیا۔ آپ (رض) نے فرمایا : اس کو باز واپس کردو یا اس کو عوض دو ، بیشک ہبوں میں رجوع کرنے والے عورتیں اور بُرے لوگ ہوتے ہیں۔