(۲۲۱۴۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ وَالْحَکَمِ : فِی رَجُلَیْنِ اشْتَرَیَا سِلْعَۃً اشْتَرَی أَحَدُہُمَا نِصْفَہَا بِعِشْرِینَ ، وَاشْتَرَی الآخَرُ نِصْفَہَا بِعَشْرَۃٍ ، فَقَالَ الشَّعْبِیُّ : إِنْ بَاعَاہَا مُرَابَحَۃً فَعَلَی رُؤُوسِ أَمْوَالِہِمَا ، وَإِنْ بَاعَاہَا مُسَاوَمَۃً فَالنِّصْفُ وَالنِّصْفُ ، وَقَالَ الْحَکَمُ : ہُوَ بَیْنَہُمَا نِصْفَانِ۔
(٢٢١٤٢) حضرت شعبی (رض) اور حضرت حکم (رض) سے مروی ہے کہ دو آدمیوں نے مل کر ایک سامان خریدا، ایک نے آدھا بیس درہم میں اور دوسرے نے آدھا دس درہم میں خریدا، حضرت شعبی (رض) فرماتے ہیں کہ اگر وہ اس سامان کو مرابحۃً فروخت کریں تو نفع رأس المال کے اعتبار سے ہوگا اور اگر وہ مبیع مساومۃ کے اعتبار سے فروخت کریں تو منافع نصف نصف ہوگا۔ اور حضرت حکم (رض) فرماتے ہیں کہ دونوں صورتوں میں منافع آدھا آدھا ہوگا۔