(۲۲۱۶۷) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی زَائِدَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : قَالَ شُرَیْحٌ : ادَّعِ وَأَکْثِرْ وَأَطْنبْ وَأْتِ عَلَی ذَلِکَ بِشُہُودٍ عُدلٍ ، فَإِنَّا قَدْ أُمِرْنَا بِالْعُدلِ ، وَأَنْتَ فَسَلْ عَنْہُ ، فَإِنْ قَالُوا : اللَّہُ أَعْلَمُ ، فَاللَّہُ أَعْلَمُ ۔ یَفْرقُون أَنْ یَقُولُوا : ہُوَ مُرِیبٌ ، وَلاَ تَجُوزُ شَہَادَۃُ مُرِیبٍ ، فَإِنْ قَالُوا : ہُوَمَا عَلِمْنَاہُ عَدْلٌ مُسْلِمٌ ، فَہُوَ إِنْ شَائَ اللَّہُ کَذَلِکَ ، وَتَجُوزُ شَہَادَتُہُ۔
(٢٢١٦٧) حضرت شریح (رض) فرماتے ہیں کہ پہلے دعویٰ کرو پھر اس میں زیادتی کرو اور خوب زیادتی طلب کرو، اور پھر اس پر عادل گواہ قائم کرو، بیشک ہمیں عدل کے ساتھ فیصلہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اور آپ ان سے سوال کریں، اگر وہ لوگ کہیں کہ اللہ اعلم، تو اللہ زیادہ جاننے والا ہے، اور وہ اگر الگ الگ ہو کر یوں کہیں کہ وہ شکِّی ہے ( شک میں ہے ) تو شک والے کی گواہی معتبر نہیں، اور اگر وہ کہیں کہ : ہمیں نہیں معلوم اس کے بارے میں مگر یہ عادل اور مسلمان ہے تو پھر وہ ان شاء اللہ اسی طرح ہے اور اس کی گواہی معتبر ہے۔