(۲۲۲۰۴) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَص ، عَنْ سِمَاکٍ ، عَنْ قَابُوسَ بْنِ مُخَارِقٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : بَعَثَ علی مُحَمَّدَ بْنَ أَبِی بَکْرٍ أَمِیرًا عَلَی مِصْرَ ، فَکَتَبَ مُحَمَّدٌ إلَی عَلِیٍّ یَسْأَلُہُ ، عَنْ مُسْلِمٍ فَجَرَ بِنَصْرَانِیَّۃٍ ؟ فَکَتَبَ عَلِیٌّ : أَنْ أَقِمِ الْحَدَّ عَلَی الْمُسْلِمِ الَّذِی فَجَرَ بِالنَّصْرَانِیَّۃِ ، وَارْفَعِ النَّصْرَانِیَّۃَ إلَی النَّصَارَی یَقْضُونَ فِیہَا مَا شَاؤُوا۔
(٢٢٢٠٤) حضرت علی (رض) نے حضرت محمد بن ابی بکر (رض) کو مصر کا حاکم بنا کر بھیجا، حضرت محمد (رض) نے حضرت علی (رض) کو تحریر کیا اور دریافت فرمایا کہ ایک مسلمان نے نصرانیہ عورت سے زنا کیا ہے اس کا کیا حکم ہے ؟ حضرت علی (رض) نے جواب تحریر فرمایا کہ جس مسلمان نے نصرانیہ کے ساتھ زنا کیا ہے اس پر حد جاری کرو، اور نصرانیہ خاتون کو نصاریٰ کے حوالہ کردو وہ اس کے بارے میں جو چاہیں فیصلہ کریں۔