(۲۲۲۶۹) حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ ، عَنِ الأَوْزَاعِی ، قَالَ : حدَّثَنی ابْنُ سُرَاقَۃَ : أَنَّ أَبَا عُبَیْدَۃَ بْنَ الْجَرَّاحِ کَتَبَ لأَہْلِ دَیْرِ طَیَایَا : إنِّی أَمَّنْتُکُمْ عَلَی دِمَائِکُمْ وَأَمْوَالِکُمْ وَکَنَائِسِکُمْ أَنْ تُخَرَّبَ ، أَوْ تُکْسر مَا لَمْ تُحْدِثُوا ، أَوْ تُؤْوُوا مُحْدِثًا مَغِیلَۃً ، فَإِنْ أَنْتُمْ أَحْدَثْتُمْ ، أَوْ أَوَیْتُمْ مُحْدِثًا مَغِیلَۃً ، فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْکُمُ الذِّمَّۃُ ، وَإِنَّ عَلَیْکُمْ إنْزَالَ الضَّیْفِ ثَلاَثَۃَ أَیَّامٍ ، وَإِنَّ ذِمَّتَنَا بَرِیئَۃٌ مِنْ مَعَرَّۃِ الْجَیْشِ ۔ شَہِدَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ وَیَزِیدُ بْنُ أَبِی سُفْیَانَ وَشُرَحْبِیلُ بْنُ حَسَنَۃَ وَقُضَاعِی بْنُ عَامِرٍ وَکَتَبَ۔ (سعید بن منصور ۲۶۰۵)
(٢٢٢٦٩) حضرت عبیدہ بن جراح (رض) نے دیر طیایا کے لوگوں کو لکھا کہ میں نے تمہارے خون، اموال اور عبادت گاہوں کو امان دی ہے کہ ان کو برباد نہ کیا جائے اور نہ توڑا جائے، جب تک کہ تم لوگ کوئی نیا کام نہ کیے جاؤ یا تم کسی قاتل کو ٹھکانا دو ، پس اگر تم نے کوئی نیا کام کیا یا کسی قاتل کو ٹھکانا دیا تو پھر میں تمہارے ذمہ سے بری ہوں، تمہارے لیے ضروری ہے کہ تم مہمان کی تین دن مہمان نوازی کرو، بیشک ہم لشکر کی غلطی، لغزش سے بری ہیں۔ حضرت خالد بن ولید (رض) ، حضرت یزید بن سفیان (رض) ، حضرت شرحبیل بن حسنہ (رض) اور قضاعی بن عامر (رض) نے گواہی دی ( گواہ بنے ) اور اس کو لکھ لیا گیا۔