hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 22270

.

ابن أبي شيبة

22270
Ibn Abi Shaybah
(۲۲۲۷۱) حَدَّثَنَا ابْنُ مَہْدِیٍّ، عَنْ أَبِی الْجَرَّاحِ ، قَالَ: حدَّثَنِی مُوسَی بْنُ سَالِمٍ، قَالَ: لَمَّا أَجْلَی الْحَجَّاجُ أَہْلَ الأَرْضِ أَتَتْنِی امْرَأَۃٌ بِکِتَابٍ زَعَمَتْ أَنَّ الَّذِی أُعْتِقَ أَبُوہَا : ہَذَا مَا اشْتَرَی طَلْحَۃُ بْنُ عُبَیْدِ اللہِ مِنْ فُلاَنِ بن فلان ، اشْتَرَی مِنْہُ فَتَاہُ دِینَارًا أَوْ دِرْہَمًا بِخَمْسِمِئَۃِ دِرْہَمٍ بِالْجَیِّدِ وَالطَّیِّبِ وَالْحَسَنِ ، وَقَدْ دَفَعَ إلَیْہِ الثَّمَنَ وَأَعْتَقَہُ لِوَجْہِ اللہِ ، فَلَیْسَ لأَحَدٍ عَلَیْہِ سَبِیلٌ إلاَّ سَبِیلَ الْوَلاَئِ ، فَشَہِدَ الزُّبَیْرُ بْنُ الْعَوَّامِ وَعَبْدُ اللہِ بْنُ عَامِرٍ وَزِیَادٌ۔
(٢٢٢٧١) حضرت موسیٰ بن سالم (رض) سے مروی ہے کہ جب حجاج نے اہل علاقہ کو جلا وطن کیا، میرے پاس ایک خاتون مکتوب لے کر آئی ، اس کا خیال تھا کہ اس کا والد آزاد کیا گیا ہے۔ ( کہنے لگی ) یہ وہ ہے جس کو طلحہ بن عبیداللہ (رض) نے فلان بن فلان سے خریدا، اس نے ایک نوجوان سے دینار یا درہم کے بدلے میں خریدا پانچ سو درہم کے بدلے میں جو جید، عمدہ اور اچھے تھے۔ اور اس کو ثمن بھی دے دیا، اور اس کو اللہ کے لیے آزاد کردیا، پھر کسی کے لیے کوئی راستہ نہیں ہے سوائے ولاء کے راستے کے۔ پس گواہی دی زبیر بن عوام (رض) ، عبداللہ بن عامر اور زیاد نے۔