(۲۲۳۶۴) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ، عَنِ ابْنِ شُبْرُمَۃَ، عَنِ الشَّعْبِیِّ، قَالَ: سَأَلْتُہ عَنْ رَجُلٍ کَانَ لَہُ عَلَی رَجُلٍ مَالٌ، فَأَشْہَدَ علیہ شَاہِدَیْنِ، فَاسْتَقْضیَ أَحَدَ الشَّاہِدَیْنِ؟ فَقَالَ الشَّعْبِیُّ: جَائَ رَجُلٌ إلَی شُرَیْحٍ یُخَاصِمُ وَأَنَا جَالِسٌ مَعَہُ، فَجَائَ الآخَرُ عَلَیْہِ بِشَاہِدٍ، ثُمَّ قَالَ لِشُرَیْحٍ: أَنْتَ تَشْہَدُ لِی، فَقَالَ شُرَیْحٌ: ائْتِ الأَمِیرَ حَتَّی أَشْہَدَ لَک۔ (بیہقی ۱۰)
(٢٢٣٦٤) حضرت شعبی (رض) سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص کا مال دوسرے کے ذمہ تھا۔ اس نے دو گواہ پیش کر دئیے۔ پھر دو گواہوں میں سے ایک سے فیصلہ کروانا چاہا ؟ پھر دوسرا شخص آیا اس کے ساتھ ایک گواہ تھا، اس نے حضرت شریح (رض) سے کہا : آپ میرے حق میں گواہی دیں، حضرت ت شریح (رض) نے فرمایا : امیر کو بلا کر لاؤ ۔ تاکہ میں گواہی دے سکوں (یعنی پھر میں قاضی یا فیصل نہیں بنوں گا)