(۲۲۴۰۲) حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ ہَانِیئٍ ، قَالَ: أخْبَرَنِی أَبُو حُذَیْفَۃَ ، عَنْ عَبْدِالْمَلِکِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَلْقَمَۃَ ، قَالَ : قَدِمَ عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَفْدُ ثَقِیفٍ ، فَأَہْدَوْا إلَیْہِ ہَدِیَّۃً ، فَقَالَ: ہَدِیَّۃٌ أَمْ صَدَقَۃٌ؟ قَالُوا: ہَدِیَّۃٌ ، قَالَ: إنَّ الْہَدِیَّۃَ یُطْلَبُ بِہَا وَجْہُ الرَّسُولِ وَقَضَائُ الْحَاجَۃِ ، وَإِنَّ الصَّدَقَۃَ یُبْتَغَی بِہَا وَجْہُ اللہِ ، قَالُوا : لاَ ، بَلْ ہَدِیَّۃٌ ، فَقَبِلَہَا مِنْہُمْ ، وَشَغَلُوہُ عَنِ الظُّہْرِ حَتَّی صَلاَّہَا مَعَ الْعَصْرِ۔
(نسائی ۶۵۹۳۔ ابو عبید ۱۷۷۰)
(٢٢٤٠٢) حضرت عبد الرحمن بن علقمہ (رض) سے مروی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں ثقیف کا وفد حاضر ہوا۔ انھوں نے کچھ ہدیہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت فرمایا یہ ہدیہ ہے یا صدقہ ؟ انھوں نے عرض کیا ہدیہ ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک ہدیہ سے اللہ کے رسول کی خوشنودی طلب کی جاتی ہے اور حاجت پوری کی جاتی ہے۔ اور صدقہ سے اللہ کی خوشنودی طلب کی جاتی ہے۔ انھوں نے عرض کیا نہیں یہ ہدیہ ہی ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے قبول فرما لیا۔ اور انھوں نے حضور کو ظہر کے تمام وقت مشغول رکھا (یعنی پاس بیٹھے رہے) یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ظہر کو عصر کے ساتھ پڑھا۔