(۲۲۴۰۵) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَنْ حُسَیْنِ بْنِ وَاقِدٍ ، قَالَ : حدَّثَنِی عَبْدُ اللہِ بْنُ بُرَیْدَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ سَلْمَانَ لَمَّا أَتَی الْمَدِینَۃَ أَتَی النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِہَدِیَّۃٍ عَلَی طَبَقٍ فَوَضَعَہَا بَیْنَ یَدَیْہِ فَقَالَ : مَا ہَذَا ؟ قَالَ : صَدَقَۃٌ عَلَیْک وَعَلَی أَصْحَابِکَ ، قَالَ: إنِّی لاَ آکُلُ الصَّدَقَۃَ ، فَرَفَعَہَا ، ثُمَّ أَتَاہُ مِنَ الْغَدِ بِمِثْلِہَا فَقَالَ: مَا ہَذَا؟ فَقَالَ : ہَدِیَّۃٌ لَکَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لأَصْحَابِہِ : کُلُوا۔ (ترمذی ۲۱۔ حاکم ۱۶)
(٢٢٤٠٥) حضرت بریدہ سے مروی ہے کہ حضرت سلمان فارسی (رض) جب مدینہ حاضر ہوئے تو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں ایک پلیٹ میں ہدیہ لے کر حاضر ہوئے، اس کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے رکھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت فرمایا یہ کیا ہے ؟ حضرت سلمان نے فرمایا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب پر صدقہ ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں صدقہ نہیں کھاتا۔ انھوں نے وہ ہدیہ اٹھوا دیا (یعنی واپس کردیا) پھر اگلے دن اسی طرح لے کر آئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت فرمایا یہ کیا ہے ؟ حضرت سلمان نے فرمایا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے ہدیہ ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ (رض) سے فرمایا کھاؤ۔