(۲۲۴۵۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ نُسَیْرِ بْنِ ذُعْلُوقٍ الثَّوْرِیِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ رَاشِدٍ الأَشْجَعِیِّ : أَنَّ رَجُلاً اشْتَرَی مِنْ رَجُلٍ بَعِیرًا وَہُوَ مَرِیضٌ فَاسْتَثْنَی الْبَائِعُ جِلْدَہُ فَبَرِیئَ الْبَعِیرُ ، فَاخْتَصَمَا إلَی عُمَرَ فَأَرْسَلَہُمَا إلَی عَلِیٍّ فَقَالَ عَلِیٌّ : یُقَوَّمُ الْبَعِیرُ فِی السُّوقِ فَیَکُونُ لَہُ شَرْوَی جِلْدِہِ۔
(٢٢٤٥٩) حضرت عمرو بن راشد سے مروی ہے کہ ایک شخص نے کسی سے اونٹ خریدا وہ اونٹ بیمار تھا، بائع نے اونٹ کی کھال کا استثناء کردیا، پھر اونٹ بعد میں ٹھیک ہوگیا، وہ دونوں اپنا جھگڑا لے کر حضرت عمر (رض) کے پاس گئے، حضرت عمر (رض) نے ان دونوں کو حضرت علی (رض) کے پاس بھیج دیا۔ حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا : بازار میں اونٹ کی قیمت لگائی جائے اور اس کو کھال کی مثل دیا جائے۔