(۲۲۵۲۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا إسماعیل بن أبی خالد ، عن أبیہ ، قَالَ : کَانَ لِی عَلَی الْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ دَیْنٌ، فَأَتَیْتہ أَتَقَاضَاہُ ، فَوَجَدْتہ قَدْ خَرَجَ مِنَ الْحَمَّامِ وَقَدْ أَثَّرَت الْحِنَّائُ بِأَظْفَارِہِ وَجَارِیۃٌ لہُ تَحُکُّ الْحِنَّائَ عَنْہُ بِقَارُورَۃٍ ، فَدَعَا بقَعْب فِیہِ دَرَاہِمُ فَقَالَ : خُذْ ہَذَا ، فَقُلْتُ : ہَذَا أَکْثَرُ مِنْ حَقِّی ، قَالَ : خُذْہُ ، فَأَخَذْتہ فَوَجَدْتہ یَزِیدُ عَلَی حَقِّی بِسِتِّینَ ، أَوْ سَبْعِینَ دِرْہَمًا۔
(٢٢٥٢٧) حضرت خالد فرماتے ہیں کہ حضرت حسن بن علی کے ذمہ میرا قرض تھا، میں ان کے پاس وصول کرنے آیا وہ اس وقت حمام سے نکل رہے تھے، اور مہندی کے اثرات ان کے ناخونوں پر تھے، اور ان کی باندی بوتل سے ان کی مہندی کو صاف ( کھرچ ) کر رہی تھی۔ آپ نے برتن نما تھیلی منگوائی جس میں درہم تھے، اور مجھ سے فرمایا یہ لے لو، میں نے عرض کیا کہ یہ تو میرے حق سے زیادہ ہے، آپ نے فرمایا رکھ لو، میں نے وہ رکھ لیے اور اس میں میں نے اپنے حق سے ساٹھ یا ستر دراہم زائد پائے۔