(۲۲۷۰۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا ہَمَّامُ بْنُ یَحْیَی ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ یَزِیدَ الرِّشْکِ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، قَالَ : قُلْتُ لِسَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ : مَا تَرَی فِی کَسْبِ الْقَسَّامِ ؟ فَکَرِہَہُ ، قُلْتُ : إنِّی أَعْمَلُ فِیہِ حَتَّی یَعْرَقَ جَبِینِی ، فَلَمْ یُرَخِّصْ لِی فِیہِ۔
قَالَ قَتَادَۃُ : وَکَانَ الْحَسَنُ یَکْرَہُ کَسْبَہُ۔
قَالَ قَتَادَۃُ : وَقَالَ ابْنُ سِیرِینَ : إِنْ لَمْ یَکُنْ خَبِیثًا فَلا أَدْرِی مَا ہُوَ۔
(٢٢٧٠٤) حضرت قاسم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن المسیب سے کہا : تقسیم کرنے والے کی اجرت کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے ؟ انھوں نے اس کو ناپسند کیا، میں نے عرض کیا کہ میں تقسیم کرتا ہوں یہاں تک کہ میری پیشانی پر پسینے آجاتے ہیں، انھوں نے میرے لیے اس میں نرمی اور اجازت نہیں دی، حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ حضرت حسن اس کی کمائی کو ناپسند کرتے تھے، حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ اگر وہ خبیث نہیں ہے تو پھر میں نہیں جانتا کہ وہ کیا ہے۔