(۲۲۷۲۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ : فِی رَجُلٍ دَفَعَ إلَی رَجُلٍ ثَلاَثَۃَ آلاَفِ دِرْہَمٍ مُضَارَبَۃً ، فَرَکِبَ الْبَحْرَ فَکُسِرَ بِہِ ، فَہَلَکَتْ أَلْفَانِ وَبَقِیَتْ أَلْفٌ ، فَتَجَرَ فِی تِلْکَ الأَلْفِ فَأَصَابَ مَالاً ، کَیْفَ یَقْتسِمَانِ ؟ قَالَ : لاَ یَقْتسِمَانِ حَتَّی تَکُونَ ثَلاَثَۃ آلاف ، ثُمَّ یَقْتسِمَانِ الرِّبْحَ بَعْدُ۔
(٢٢٧٢٧) حضرت حسن سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص نے دوسرے کو تین ہزار درہم بطور مضاربت دئیے، وہ کشتی میں سوار ہوا اور وہ ٹوٹ گئی تو اس کے دو ہزار ضائع ہوگئے اور ایک ہزار باقی بچ گیا، اس شخص نے ایک ہزار میں تجارت کی اور کچھ نفع کمایا تو اب وہ نفع کس طرح تقسیم کریں گے ؟ آپ نے فرمایا جب تک وہ تین ہزار نہ ہوجائیں وہ تقسیم نہیں کریں گے پھر اس کے بعد نفع تقسیم کریں گے۔