(۲۲۸۸۷) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ ، عَنْ أَبِی جَعْفَرٍ الْخَطْمِیِّ ، قَالَ : بَعَثَنِی عَمِّی وَغُلاَمًا لَہُ إلَی سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ فَقَالَ : مَا تَقُولُ فِی الْمُزَارَعَۃِ ؟ قَالَ : کَانَ ابْنُ عُمَرَ لاَ یَرَی بِہَا بَأْسًا حَتَّی حُدِّثَ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِیجٍ فِیہَا حَدِیثًا ، أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَتَی عَلَی بَنِی حَارِثَۃَ فَرَأَی زَرْعًا فِی أَرْضِ ظُہَیْرٍ ، فَقَالَ : مَا أَحْسَنَ زَرْعُ ظُہَیْرٍ ، فَقَالُوا : إِنَّہُ لَیْسَ لِظُہَیْرٍ ، قَالَ : أَلَیْسَتِ الأَرْضُ أَرْضَ ظُہَیْرٍ ؟ قَالُوا : بَلَی وَلَکِنَّہُ زَارَعَ فُلاَنًا ، قَالَ : فَرُدُّوا عَلَیْہِ نَفَقَتَہُ وَخُذُوا زَرْعَکُمْ ، قَالَ رَافِعٌ : فَرَدَدْنَا عَلَیْہِ نَفَقَتَہُ وَأَخَذْنَا زَرْعَنَا ، قَالَ سَعِیدٌ : أَفْقِرْ أَخَاک ، أَوْ أَکْرِہْ بِوَرِقٍ۔
(٢٢٨٨٧) حضرت ابو جعفر (رض) فرماتے ہیں کہ مجھے اور ایک لڑکے کو میرے چچا نے حضرت سعید بن المسیب کے پاس بھیجا، ان سے دریافت کیا کہ آپ مزارعت کے متعلق کیا فرماتے ہیں ؟ فرمایا : حضرت ابن عمر (رض) اس میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے، یہاں تک کہ ان کو رافع بن خدیج سے یہ حدیث بیان کی گئی کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بنی حارثہ کے پاس آئے اور آپ نے ظھیر کی زمین کو دیکھا، اور فرمایا : ظُھیرکی کھیتی کتنی عمدہ اور اچھی ہے ! ، لوگوں نے عرض کیا : یہ ظھیر کی نہیں ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت فرمایا : کیا یہ ظھیر کی زمین نہیں ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا، کیوں نہیں، لیکن اس کو فلاں شخص نے (بغیر اجازت) کاشت کیا ہے۔ فرمایا : اس کو اس کا نفقہ (خرچہ) واپس کردو، اور تم اپنی کھیتی واپس لو، حضرت رافع فرماتے ہیں کہ ہم نے اس کو نفقہ واپس کردیا اور کھیتی واپس لے لی، حضرت سعید فرماتے ہیں کہ اپنے بھائی کو عاریتاً زراعت کے لیے دے دو یا پھر چاندی کے بدلے کرایے پردے دو ۔