(۲۲۹۱۳) حَدَّثَنَا ابْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ أَبِی الْجَرَّاحِ ، قَالَ : حدَّثَنِی مُوسَی بْنُ سَالِمٍ ، قَالَ : لَمَّا أَجْلَی الْحَجَّاجُ أَہْلَ الأَرْضِ أَتَتْنِی امْرَأَۃٌ بِکِتَابٍ زَعَمَتْ أَنَّ الَّذِی أُعْتِقَ أَبُوہَا : ہَذَا مَا اشْتَرَی طَلْحَۃُ بْنُ عُبَیْدِ اللہِ مِنْ فُلاَنِ بْنِ فُلاَنٍ ، اشْتَرَی مِنْہُ فَتَاہُ دِینَارًا أَوْ دِرْہَمًا بِخَمْسِمِئَۃِ دِرْہَمٍ ، بِالْجَیِّدِ وَالطَّیِّبِ ، وَالْحَسَنِ۔
(٢٢٩١٣) حضرت موسیٰ بن سالم (رض) سے مروی ہے کہ جب حجاج نے اہل الارض کو بری الذمہ کیا، میرے پاس ایک خاتون مکتوب لے کر آئی ، اس کا خیال تھا کہ بیشک اس کے والد کو آزاد کیا گیا ہے۔ (کہنے لگی) یہ وہ ہے جس کو طلحہ بن عبید اللہ نے فلان بن فلان سے خریدا، اس نے ایک نوجوان سے دینار یا درہم کے بدلے میں خریدا پانچ سو درہم کے بدلے میں جو جید، عمدہ اور اچھے تھے، اور اس کو ثمن بھی دے دیا، اور اس کو اللہ کے لیے آزاد کردیا۔