(۲۲۹۲۹) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیُّ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ ، عَنْ أَبِی الأَشْعَث ، قَالَ : کُنَّا فِی غَزَاۃٍ وَعَلَیْنَا مُعَاوِیَۃُ ، فَأَصَبْنَا ذَہَبًا وَفِضَّۃً ، فَأَمَرَ مُعَاوِیَۃُ رَجُلاً یَبِیعُہَا النَّاسَ فِی أُعْطِیَّاتِہِمْ ، فَسَارَعَ النَّاسُ فِیہَا ، فَقَامَ عُبَادَۃُ فَنَہَاہُمْ فَرَدُّوہَا ، فَأَتَی الرَّجُلُ مُعَاوِیَۃَ فَشَکَا إلَیْہِ ، فَقَامَ مُعَاوِیَۃُ خَطِیبًا فَقَالَ : مَا بَالُ رِجَالٍ یُحَدِّثُونَ عَنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَحَادِیثَ یَکْذِبُونَ فِیہَا ، لَمْ نَسْمَعْہَا ؟ فَقَامَ عُبَادَۃُ ، فَقَالَ : وَاللَّہِ لَنُحَدِّثَنَّ عَنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَإِنْ کَرِہَ مُعَاوِیَۃُ ، قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لاَ تَبِیعُوا الذَّہَبَ بِالذَّہَبِ ، وَلاَ الْفِضَّۃَ بِالْفِضَّۃِ ، وَلاَ الشَّعِیرَ بِالشَّعِیرِ ، وَلاَ التَّمْرَ بِالتَّمْرِ ، وَلاَ الْمِلْحَ بِالْمِلْحِ إلاَّ مِثْلاً بِمِثْلٍ سَوَائً بِسَوَائٍ عَیْنًا بِعَیْنٍ۔ (مسلم ۱۲۱۰۔ ابوداؤد ۳۳۴۲)
(٢٢٩٢٩) حضرت ابو الاشعث فرماتے ہیں کہ ہم لوگ ایک جہاد میں تھے جس میں حضرت معاویہ بھی ہمارے ساتھ تھے، ہمیں مال غنیمت میں سونا اور چاندی ملے، حضرت معاویہ نے ایک شخص کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کے ساتھ بیع کرے اس سونا چاندی میں جو ان کو ملا ہے، لوگوں نے اس میں بہت جلدی کی، حضرت عبادہ (رض) کھڑے ہوئے اور لوگوں کو اِ س سے منع فرما دیا، انھوں وہ واپس کردیا، وہ شخص حضرت معاویہ کے پاس شکایت لے کر آیا، حضرت معاویہ (رض) خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا : لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایسی احادیث بیان کرتے ہیں جو کہ جھوٹی ہوتی ہیں جن کو ہم نے نہیں سنا ہوتا ؟ حضرت عبادہ (رض) کھڑے ہوئے اور فرمایا : خدا کی قسم ہم ضرور رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے احادیث بیان کریں گے اگرچہ معاویہ کو وہ بُری لگیں، حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : سونے کو سونے کے بدلے، چاندی کو چاندی کے بدلے ، جو کو جو کے بدلے، کھجور کو کھجور کے بدلے، نمک کو نمک کے بدلے نہ فروخت کرو، مگر برابر سرابر، ہاتھ در ہاتھ اور نقد۔