(۲۲۹۳۵) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ فُضَیْلِ بْنِ غَزْوَانَ ، قَالَ : حدَّثَنِی أَبُو دِہْقَانَۃَ ، قَالَ : کُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ فَقَالَ : أَتَی رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ضَیْفٌ فَقَالَ لِبِلاَلٍ : ائْتِنَا بِطَعَامٍ ، فَذَہَبَ بِلاَلٌ إلَی صَاعَیْنِ مِنْ تَمْرٍ فَاشْتَرَی بِہَا صَاعًا مِنْ تَمْرٍ جَیِّدٍ ، وَکَانَ تَمْرُہُمْ دُونًا ، فَأَعْجَبَ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ التَّمْرُ ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مِنْ أَیْنَ ہَذَا التَّمْرُ ؟ فَأَخْبَرَہُ أَنَّہُ بَدَّلَ صَاعَیْنِ بِصَاعٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : رُدَّ عَلَیْنَا تَمْرَنَا۔ (احمد ۲/۲۱۔ ابویعلی ۵۷۱۰)
(٢٢٩٣٥) حضرت ابو دھقانہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کے پاس بیٹھا ہوا تھا، آپ (رض) نے ارشاد فرمایا کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں ایک مہمان آیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت بلال (رض) سے فرمایا : ہمارے لیے کھانا لاؤ، حضرت بلال (رض) دو صاع کھجور لے کر گئے اور ان کے بدلے ایک صاع اعلیٰ کھجور لے آئے، جبکہ ان کی کھجور اس سے ادنیٰ تھی، آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کھجور پسند آئی، آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت فرمایا : یہ کھجوریں کہاں سے آئیں ؟ انھوں نے بتایا کہ دو صاع دے کر ایک صاع لایا ہوں، آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ہمیں ہماری کھجوریں واپس لا کردو۔