(۲۲۹۵۰) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَص ، عَنْ سِمَاکٍ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : کُنْتُ أَبِیعُ الذَّہَبَ بِالْفِضَّۃِ ، وَالْفِضَّۃَ بِالذَّہَبِ ، فَأَتَیْت النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُہُ ؟ فَقَالَ : إذَا بَایَعْت صَاحِبَک فَلاَ تُفَارِقْہُ وَبَیْنَکَ وَبَیْنَہُ لُبْسٌ۔ (ترمذی ۱۲۴۲۔ ابوداؤد ۳۳۴۷)
(٢٢٩٥٠) حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ میں سونے کی چاندی کے ساتھ اور چاندی کی سونے کے ساتھ بیع کرتا تھا، میں حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کے متعلق دریافت کیا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جب تم اپنے ساتھی کے ساتھ بیع کرو تو جب تک تمہارے درمیان کوئی اشتباہ موجود ہو اس سے الگ نہ ہو۔