(۲۲۹۶۸) حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إسْمَاعِیلَ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ ، قَالَ عَلِیٌّ : مَنْ بَاعَ عَبْدًا وَلَہُ مَالٌ فَالْمَالُ لِلْبَائِعِ إلا أن یشترط المبتاع ، وَمَنْ بَاعَ نَخْلاً قَدْ أُبِّرَتْ یَعْنِی : لُقِّحَتْ ، فَثَمَرَتُہُ لِلْبَائِعِ إلاَّ أَنْ یَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ ، قَضَی بِہِ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ (بیہقی ۳۲۶)
(٢٢٩٦٨) حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جو شخص ایسا غلام خریدے جس کے پاس مال بھی ہو تو وہ مال بائع کا ہوگا، مگر یہ کہ خریدنے والا اس کی بھی شرط لگا دے ان الفاظ کے ساتھ کہ میں اس کو اور اس کے مال کو آپ سے خریدتا ہوں، اور جو شخص ایسا درخت خریدے، جس کے پھل پک چکے ہوں تو اس کے پھل بائع کے ہوں گے، مگر یہ کہ خریدنے والا پھلوں کی بھی شرط لگا دے۔