(۲۳۰۱۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ الأَوْزَاعِیِّ ، عَنْ وَاصِلِ بْنِ أَبِی جَمِیلٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، قَالَ : اشْتَرَکَ أَرْبَعَۃُ رَہْطٍ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی زَرْعٍ ، فَقَالَ أَحَدُہُمْ : قِبَلِی الأَرْضُ ، وَقَالَ الآخَرُ : قِبَلِی الْفَدَّانُ ، وَقَالَ الآخَرُ : قِبَلِی الْبَذْرُ ، وَقَالَ الآخَرُ : عَلَیَّ الْعَمَلُ ، فَلَمَّا اسْتُحْصِدَ الزَّرْعُ تَفَاتَوْا فِیہِ إلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ الزَّرْعَ لِصَاحِبِ الْبَذْرِ ، وَأَلْغَی صَاحِبَ الأَرْضِ ، وَجَعَلَ لِصَاحِبِ الْفَدَّانِ شَیْئًا مَعْلُومًا ، وَجَعَلَ لِصَاحِبِ الْعَمَلِ دِرْہَمًا کُلَّ یَوْمٍ ، قَالَ وَاصِلٌ : فَحَدَّثْت بِہِ مَکْحُولاً ، فَقَالَ : لَہَذَا الْحَدِیثُ أَحَبُّ إلَیَّ مِنْ وَصِیْفٍ۔
قَالَ وَکِیعٌ : أَحَبُّ من الزَّرْعِ إلَیْنَا التِّجَارَۃُ بِالذَّہَبِ وَالْفِضَّۃِ وَالطَّعَامِ وَہُوَ قَوْلُ سُفْیَانَ۔
قَالَ وَکِیعٌ : وَنَرْجُو أَنْ یَکُونَ النِّصْفُ وَالثُّلُثُ وَالرُّبُعُ جَائِزًا ، لأَنَّ النَّاسَ یَعْمَلُونَ بِہِ۔
(٢٣٠١٠) حضرت مجاہد سے مروی ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں چار آدمیوں نے زراعت میں اشتراک کیا، ان میں سے ایک نے کہا : زمین میری طرف سے، دوسرے نے کہا : بیل میری طرف سے، تیسرے نے کہا : دانہ میری طرف سے ، چوتھے نہ کہا : کام سارا میرے ذمہ، جب کھیتی تیار ہوگئی تو وہ مسئلہ دریافت کرنے کے لیے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دانہ والے کے لیے کھیتی، زمین والے کے لیے بھوسا ، بیل والے کے لیے کچھ معلوم حصہ اور کام کرنے والے کے لیے ہر دن کے حساب سے ایک درہم مقرر فرما دیا۔
حضرت مکحول (رض) فرماتے ہیں کہ یہ حدیث مجھے نوکر سے (غلام) زیادہ پسند ہے، حضرت وکیع فرماتے ہیں کہ ہمیں زراعت سے زیادہ سونے اور چاندی اور کھانے کی تجارت پسند ہے۔
حضرت وکیع فرماتے ہیں کہ ہمارا خیال ہے کہ مزارعت بالنصف، ثلث اور ربع بھی جائز ہے کیونکہ لوگ (بکثرت) یہ کرتے ہیں۔