(۲۳۰۷۱) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنِ الشَّیْبَانِیِّ ، عَنْ حَبِیبِ بْنِ أَبِی ثَابِتٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : أَتَاہُ أَعْرَابِیٌّ فَقَالَ: إنِّی أَعْطَیْتُ ابْنَ أَخِی نَاقَۃً حَیَاتَہُ ، فَنَمَتْ حَتَّی صَارت إبْلاً ، فَمَا تری فِیہَا ؟ قَالَ : ہِیَ لَہُ حَیَاتَہُ وَمَوْتَہُ ، فَقَالَ ألأَعْرَابِیُّ : إنَّمَا جَعَلْتہَا صَدَقَۃً ، قَالَ : ذَلِکَ أَبْعَدُ لَکَ مِنْہَا۔
(٢٣٠٧١) حضرت ابن عمر (رض) کے پاس ایک اعرابی آیا اور عرض کیا : میں نے اپنے بھتیجے کو ایک اونٹنی کا بچہ دیا تھا اس کی زندگی بھر کے لئے، اس نے اس کو پالا یہاں تک کہ اب وہ بڑا اونٹ بن گیا ہے، آپ کی اس کے بارے میں کیا رائے ہے ؟ فرمایا وہ زندگی اور مرنے کے بعد بھی اسی کے لیے ہے۔ اعرابی نے کہا پھر میں نے اس کو صدقہ کردیا۔ فرمایا : پھر تو یہ پہلے سے بھی زیادہ تجھ سے دور ہوگی۔ (یعنی واپسی کی کوئی راہ نہیں ہے)