(۲۳۲۱) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : أَذَّنَ بِلاَلٌ بِلَیْلٍ ، فَأَمَرَہُ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ یُنَادِیَ : نَامَ الْعَبْدُ ، فَرَجَعَ فَنَادَی : نَامَ الْعَبْدُ ، وَہُوَ یَقُولُ :
لَیْتَ بِلاَلاً لَمْ تَلِدْہُ أُمُّہُ
وَابْتَلَّ مِنْ نَضْحِ دَمٍ جَبِینُہُ
قَالَ : وَبَلَغَنَا أَنَّہُ أَمَرَہُ أَنْ یُعِیدَ الأَذَانَ۔ (دار قطنی ۵۴۔ ۵۵)
(٢٣٢١) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ حضرت بلال نے ایک مرتبہ رات کو اذان دے دی۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں حکم دیا کہ جا کر اعلان کریں کہ بندہ سو گیا ! وہ واپس گئے اور انھوں نے یہ اعلان کیا کہ بندہ سو گیا۔ ساتھ ساتھ یہ شعر پڑھ رہے تھے (ترجمہ) کاش بلال کو اس کی ماں نے جنا ہی نہ ہوتا اور کاش خون سے اس کی پیشانی تر ہوچکی ہوتی۔ راوی فرماتے ہیں کہ ہمیں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں اذان کے اعادے کا حکم دیا تھا۔