(۲۳۲۵) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ یَزِیدَ ابْنِ أُخْتِ نَمِرٍ ، قَالَ : مَا کَانَ لِرَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلاَّ مُؤَذِّنٌ وَاحِدٌ ، یُؤَذِّنُ إذَا قَعَدَ عَلَی الْمِنْبَرِ وَیُقِیمُ إذَا نَزَلَ ، ثُمَّ أَبُو بَکْرٍ کَذَلِکَ ، ثُمَّ عُمَرُ کَذَلِکَ ، حَتَّی کَانَ عُثْمَانَ ، وَفَشَا النَّاسُ وَکَثُرُوا ، زَادَ النِّدَائَ الثَّالِثَ عِنْدَ الزَّوَالِ ، أَوِ الزَّوْرَائِ۔ (بخاری ۹۱۲۔ ابوداؤد ۱۰۸۰)
(٢٣٢٥) حضرت سائب بن یزید کہتے ہیں کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صرف ایک مؤذن تھے جو اس وقت اذان کہتے جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منبر پر بیٹھتے اور اس وقت اقامت کہتے جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منبر سے اترتے۔ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کا بھی یہی معاملہ تھا۔ جب حضرت عثمان کا زمانہ آیا تو لوگ زیادہ ہوگئے اور ادھر ادھر پھیل گئے لہٰذا انھوں نے زوال کے وقت تیسری اذان کا اضافہ کردیا۔