حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللہِ بْنُ یُونُسَ ، قَالَ : حدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ بَقِیُّ بْنُ مَخْلَدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ ، قَالَ :
(۲۳۲۵۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أُمِّہِ فَاطِمَۃَ ابْنَۃِ حُسَیْنٍ ، أَنَّ زَیْدَ بْنَ حَارِثَۃَ قَدِمَ یَعْنِی مِنْ أَیْلَۃَ ، فَاحْتَاجَ إلَی ظَہْرٍ فَبَاعَ بَعْضَہُمْ ، فَلَمَّا قَدِمَ عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَأَی امْرَأَۃً مِنْہُمْ تَبْکِی ، قَالَ : مَا شَأْنُ ہَذِہِ ؟ فَأُخْبِرَ أَنَّ زَیْدًا بَاعَ وَلَدَہَا ، فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اُرْدُدْہُ أَوِ اشْتَرِہِ۔
(٢٣٢٥٧) حضرت عبداللہ بن الحسین اپنی والدہ فاطمہ بنت حسین سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت زید بن حارثہ أیلہ سے واپس تشریف لائے تو انھیں کچھ سامان کی ضرورت پیش آئی تو انھوں نے بچوں میں سے ایک کو فروخت کردیا جب حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے تو آپ نے ان میں سے ایک خاتون کو روتے ہوئے دیکھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت فرمایا اس کو کیا ہوا ہے ؟ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتایا گیا کہ حضرت زید نے اس کے بیٹے کو فروخت کردیا ہے۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اس کو واپس کرو۔ یا فرمایا کہ اس کو خرید لو۔