(۲۳۳۵۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللہِ یَعْنِی ابْنَ أَبِی فَرْوَۃَ ، عَنْ غَیْلاَنَ ، قَالَ : قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ : لَوْ غَیَّرْتَ ہَذِہِ الدَّرَاہِمَ فَإِنَّہَا تَقَعُ فِی یَدِ الْیَہُودِیِّ وَالنَّصْرَانِیِّ وَالْجُنُبِ وَالْمَجُوسِیِّ ، قَالَ : أَرَدْتَ أَنْ تَحْتَجَّ عَلَیْنَا الأُمَمُ ، تُرِیدُ أَنْ نُغَیِّرَ تَوْحِیدَ ربِّنَا وَاسْمَ نَبِیِّنَا؟!۔
(٢٣٣٥٣) حضرت غیلان فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن عبد العزیز سے عرض کیا کہ اگر ان دراہم کو تبدیل کردیا جائے تو بہتر ہے، کیونکہ یہ یہودی ، عیسائی، ناپاک شخص اور مجوسی کے ہاتھوں میں جاتا ہے ان کے ہاتھ لگتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ کیا آپ چاہتے ہو کہ دوسرے مذہب والے تم پر اعتراض کریں ؟ کیا تم چاہتے ہو کہ رب کی توحید اور اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نام تبدیل کردیں ؟