(۲۳۳۷۵) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ یُونُسَ ، عَنِ الفَزَعِ بْنِ عُفَیقٍ ، قَالَ : قُلْتُ لابْنِ عُمَرَ : مَا تَقُولُ فِی السَّرَقِ ؟ قَالَ: وَمَا السَّرَقُ ؟ قُلْتُ : الْحَرِیرُ ، أَوْ شُقَقُ الْحَرِیرِ ، قَالَ : یَا أَہْلَ الْعِرَاقِ ، إنَّکُمْ تُسَمُّونَ أَسْمَائً مُنْکَرَۃً ، أَوَلاَ تَقُولُ : شُقَقُ الْحَرِیرِ ؟! قُلْتُ : فَإِنَّ لَہُ فِی السُّوقِ سِعْرًا نَشْتَرِیہ بِسِعْرٍ ، وَنَبِیعُہُ إلَی الْعَطَائِ بِأَکْثَرَ مِنْ ذَلِکَ، قَالَ : إذَا اشْتَرَیْتَہُ وَقَبَضْتَہُ فَبِعْہُ کَیْفَ شِئْتَ۔
(٢٣٣٧٥) حضرت فزع فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر (رض) سے عرض کیا کہ آپ السّرق کے متعلق کیا فرماتے ہیں ؟ آپ نے پوچھا السّرق کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا ریشم یا ریشم کے ٹکڑے، آپ نے فرمایا اے عراق والو ! تم برے نام رکھتے ہو۔ کیا تم نے شقق الحریر نام نہیں رکھا ؟ میں نے کہا کہ اس کا بازار میں اچھا بھاؤ ہے۔ ہم اس کو اس بھاؤ سے خرید کر آگے پارچہ برید کو اس سے مہنگے داموں فروخت کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا جب تم خرید کر اِ س پر قبضہ کرلو تو پھر کسی طرح مرضی چاہو فروخت کرو۔