hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 23427

.

ابن أبي شيبة

23427
Ibn Abi Shaybah
(۲۳۴۲۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا أُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ اللَّیْثِیُّ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ رَافِعٍ مَوْلَی أُمِّ سَلَمَۃَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ ، قَالَتْ : جَائَ رَجُلاَنِ مِنَ الأَنْصَارِ إلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَخْتَصِمَانِ فِی مَوَارِیثَ بَیْنَہُمَا ، قَدْ دَرَسَتْ لَیْسَ بَینَہُمَا بَیِّنَۃٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إنَّکُمْ تَخْتَصِمُونَ إلَیَّ ، وَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ ، وَلَعَلَّ بَعْضَکُمْ أَنْ یَکُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِہِ مِنْ بَعْضٍ ، وَإِنَّمَا أَقْضِی بَیْنَکُمْ عَلَی نَحْوٍ مِمَّا أَسْمَعُ مِنْکُمْ ، فَمَنْ قَضَیْتُ لَہُ مِنْ حَقِّ أَخِیہِ بِشَیْئٍ فَلاَ یَأْخُذْہُ ، فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَہُ بِہِ قِطْعَۃً مِنَ النَّارِ ، یَأْتِی بِہَا إسْطَامًا فِی عُنُقِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ، قَالَتْ : فَبَکَی الرَّجُلاَنِ وَقَالَ کُلٌّ مِنْہُمَا : حَقِّی لأَخِی ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَمَّا إذْ فَعَلْتُمَا فَاذْہَبَا فَاقْتَسِمَا وَتَوَخَّیَا الْحَقَّ ، ثُمَّ اسْتَہِمَا ، ثُمَّ لْیَحْلِلْ کُلُّ وَاحِدٍ مِنْکُمَا صَاحِبَہُ۔ (ابوداؤد ۳۵۷۹۔ دارقطنی ۱۲۳)
(٢٣٤٢٨) حضرت ام سلمہ (رض) سے مروی ہے کہ انصار کے دو شخص میراث کے متعلق جھگڑتے ہوئے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے، ان کے پاس گواہ نہ تھے، آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم لوگ اپنا جھگڑا لے کر میرے پاس آتے ہو میں بھی تمہاری طرح ایک انسان ہوں، شاید کہ تم میں سے بعض بعض پر حجت و دلیل میں غالب آجائے ، میں تو تمہارے درمیان اسی کے مطابق فیصلہ کرتا ہوں جو سنتا ہوں، پس جس کے لیے اس کے بھائی کے حق میں سے فیصلہ جائے تو اس کو چاہیے کہ وہ وصول نہ کرے، بیشک وہ تو آگ کا ایک ٹکڑا ہے ، جو قیامت کے دن اس کی گردن میں آگ کا کڑا ہوگا، حضرت ام سلمہ (رض) فرماتی ہیں کہ یہ سن کر وہ دونوں رونے لگے ، اور ہر ایک دوسرے سے کہنے لگا کہ میرا حق میرے بھائی کے لیے ہے۔ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جب تم یہ کرچکے تو اب تم دونوں جاؤ اور آپس میں تقسیم کرلو، اور حق کا ارادہ کرو اور پھر آپس میں قرعہ ڈال لو، پھر چاہیے کہ تم میں سے ہر ایک اپنا حصہ اپنے بھائی کے لیے حلال کر دے۔