(۲۳۴۵۷) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ بْنِ سَالِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ الشَّعْبِیَّ وَسُئِلَ عَنْ قَاضٍ قَضَی بِجَوْرٍ ، فَقَالَ الشَّعْبِیُّ : أَمَّا الْجَوْرُ فَلاَ أَقُولُ فِیہِ ، یَقُولُ : إِنَّہُ لاَ یَنْبَغِی لَہُ أَنْ یَجُورَ ، وَلَکنْ أَیُّمَا قَاضٍ قَضَی ، فَجَائَ قَاضٍ مِنْ بَعْدِہِ ، فَلاَ یَنْبَغِی لَہُ أَنْ یَنْظُرَ فِی قَضَائِہِ ، وَیُوَلِّیہِ مِنْ ذَلِکَ مَا کَانَ تَوَلَّی۔
(٢٣٤٥٧) حضرت شعبی سے دریافت کیا گیا کہ اگر قاضی نے ظلماً فیصلہ کیا ہو ؟ حضرت شعبی نے فرمایا : ظلم کے متعلق تو میں کچھ نہیں کہتا، فرماتے ہیں کہ قاضی کے لیے ظلماً فیصلہ کرنا مناسب نہیں ہے۔ بہرحال کوئی قاضی فیصلہ کرے، پھر اس کے بعد دوسرے قاضی کے پاس فیصلہ لایا جائے، اس دوسرے قاضی کے لیے اس پہلے قاضی کے فیصلہ پر نظر ثانی کرنا مناسب نہیں ہے۔ اور جن فیصلوں کی ذمہ داری اس کی تھی وہ اسی کی کے سپرد کر دے۔